بنگلورو،12؍جون(ایس او نیوز)ریاستی حکومت کی طرف سے گزشتہ سال کروائے گئے ذات پات کے سروے کی رپورٹ کو جلد از جلد منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج کونسل میں بی جے پی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن تارا انورادھا کی طرف سے کئے گئے سوال کا حکومت کی طرف سے غیر اطمینان بخش جواب دئے جانے پر اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپانے کہا کہ حکومت کو کم ازکم یہ واضح کردینا چاہئے کہ سروے کی رپورٹ کب آئے گی۔ پچھلی بار ایوان میں یہ جواب دیا گیاتھاکہ نومبر یا جنوری میں سماجی ومعاشی سروے کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔خود وزیر اعلیٰ سدرامیا نے یہ یقین دہانی کرائی تھی، بعد میں کہا گیا تھاکہ مئی میں اعداد وشمار ظاہر کئے جائیں گے، لیکن اب تک یہ رپورٹ کیوں منظر عام پر نہیں آئی؟۔ ان اعداد وشمار کو منظر عام پر لانے میں حکومت کیلئے کونسی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے چیرمین کانتا راج کا کہنا ہے کہ سروے کی رپورٹ مکمل طور پر تیار ہے۔ حکومت کی ہدایت کے مطابق حکومت نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ رپورٹ بھی حکومت کو مل چکی ہے، اب اسے منظر عام پر لانے میں تذبذب کیسا۔ اس مرحلے میں آنجنیا نے حکومت کی طرف سے رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کا دفاع کیا، اور کہا کہ جلد ہی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔ وزیر صحت رمیش کمار نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے اس سے پہلے بھی بعض تاریخوں کا تعین کیاگیا ۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بھی اس سلسلے میں یقین دہانی کرائی۔رمیش کمار نے مطالبہ کیا کہ ایک بار پھر حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ رپورٹ کب منظر عام پر لائی جائے گی۔ تاہم رمیش کمار کے اس استدلال کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایشورپا نے کہاکہ ابھی اس مسئلے پر بحث ہوگئی ہے تو اس کا جواب دے کر ختم کیا جائے اسے طول دینے کی ضرورت نہیں۔